حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت الله العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں دفترِ نمائندگی آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ، لکھنؤ ہندوستان کے زیرِ اہتمام حسینیہ قائمہ خاتون، سجاد باغ کالونی میں مجلسِ ترحیم منعقد ہوئی، جس میں دینی، علمی، قومی، سماجی اور صحافتی شخصیات کے علاوہ کثیر تعداد میں مؤمنین نے شرکت کی۔
مجلس کا آغاز مولانا علی محمد معروفی نے تلاوتِ کلامِ الٰہی سے کیا؛ جس کے بعد مولانا حسن عباس اور مولانا علی محمد نے بارگاہِ اہلِ بیت علیہم السلام میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
مجلسِ ترحیم سے آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے نمائندہ، حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید اشرف علی الغروی نے خطاب کرتے ہوئے مرحوم مرجعِ تقلید کی علمی، دینی اور اخلاقی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ آیت الله العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض رحمۃ اللہ علیہ افغانستان کے ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم افغانستان میں حاصل کی، پھر مشہد مقدس اور بعد ازاں حوزۂ علمیہ نجف اشرف میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی۔ اپنی غیر معمولی علمی صلاحیت، تقویٰ، اخلاص اور مسلسل علمی جدوجہد کے باعث آپ درجۂ اجتہاد اور منصبِ مرجعیت پر فائز ہوئے۔
مولانا سید اشرف علی الغروی نے کہا کہ عظیم مقامِ اجتہاد و مرجعیت محض دعوؤں سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے علم، تقویٰ، اخلاص اور اہلیت بنیادی شرائط ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ"ہمارے یہاں جب نیابت بغیر معیار کے قابلِ قبول نہیں اور کوئی نااہل شخص مجتہد یا مرجع نہیں بن سکتا، تو پھر کوئی نااہل شخص امام کیسے ہو سکتا ہے؟"
انہوں نے مرحوم آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ اسحاق فیاضؒ کی سادگی، انکساری اور تواضع کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ انتہائی منکسر المزاج تھے۔ اگر کوئی طالبِ علم بھی ملاقات کے لئے آتا تو اس کے احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ خود مرجعِ تقلید ہونے کے باوجود دیگر مراجعِ کرام، بالخصوص آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ، کا بے حد احترام کرتے تھے۔
مولانا سید اشرف علی الغروی نے مزید کہا کہ "تواضع اور انکساری انسانیت کا حقیقی حسن ہیں، جبکہ علم و اخلاص اس کی روح ہیں۔ یہ اوصاف اسی شخص میں پیدا ہوتے ہیں جو علم و عمل کی دولت سے مالامال ہو۔"









آپ کا تبصرہ